 |
|
مصور جمی
انجینئیر |
اس تحریر کے آخر میں جمی
انجینیئر کی تصاویر ملاحظہ کیجیے
سیاہ داڑھی میں کہیں کہیں سے
جھانکتے ہوئے سفید بال، کالی قمیص اور سیاہ شلوار میں ملبوس اور دھیمے
لہجے میں سہج سہج کر بولنے والے جمی انجینئر کو دیکھ کر یہ اندازہ نہیں
ہوتا کہ وہ ملک کے نامور مصور ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سرگرم اور جوشیلے
سماجی کارکن بھی ہیں۔
لیکن جب گفتگو کا سلسلہ گہرا ہونے
لگتا ہے تو ان کے چہرے پر ایک مخصوص چمک آ جاتی ہے، وہ کرسی پر تھوڑا
آگے جھک آتے ہیں اور ملک میں قدم قدم پر بکھرے مسائل کا کرب
آنکھوں سے ہویدا ہونے ہونے لگتا ہے، اور آرٹسٹ جمی انجینیئر پر
ایکٹیوسٹ حاوی ہو جاتا ہے۔
جمی انجینئر نے معذور بچوں کے
مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ان تھک کام کیا ہے۔ ملک کے طول و عرض
میں کئی بار کی جانے والی ہزاروں میل لمبی واک، ایک سو سے زیادہ فنکشن
اور ان کے مسائل پر بنائی جانے والی درجنوں تصاویر اس کی گواہی
دیتی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ پنچ ستارہ ہوٹلوں میں ہونے والے ان میں
کوئی وزیر یا سفیر مہمانِ خصوصی نہیں ہوتا بلکہ خصوصی بچوں ہی میں سے
کسی کو مہمانِ خصوصی بنایا جاتا ہے۔
سماجی کارہائے نمایاں کے
علاوہ، یا اس کی وجہ سے، ان کی شخصیت کا ایک اہم رخ پاکستانیت ہے۔ وہ
اپنے آپ کو پاکستان کا نوکر کہتے ہیں۔ وہ بیرونی دنیا میں پاکستان کے
تاثر کو بہتربنانے کے لیے ہمہ تن کوشاں ہیں اور انھیں اس سلسلے میں
اپنے فن کو بہ طور آلہ برتنے میں بھی کوئی باک نہیں ہے۔
اور ویسے بھی فن ان کے ہاں
محض جمالیاتی عیاشی کا نام نہیں بلکہ وہ اس کے ذریعے اپنا پیغام لوگوں
تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ وہ فن برائے انسانیت میں یقین
رکھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ایسے فن کا کوئی فائدہ نہیں جسے
گنتی کے چند نقاد ہی سمجھ سکیں۔ چناں چہ جمی انجینئر اس لحاظ سے ہمارے
ہاں30 اور 40 کی دہائی میں ابھرنے والی ترقی پسند تحریک سے جڑے ہوئے
نظر آتے ہیں۔
لیکن ان تمام جہتوں کے باوجود جمی
انجینئر کی بنیادی شناخت بہر حال مصوری ہی ہے۔ اور مصوری میں بھی وہ
کسی ایک میڈیم تک محدود نہیں رہے، آئل، واٹر کلر، پیسٹل، ڈرائنگز، منی
ایچر، سرامکس، غرض کہ ہر میدان میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ ان کے موضوعات
بھی ان کے میڈیمز کی طرح وسیع ہیں اور ان کی لینڈ سکیپ، تاریخی
تصاویر، تجریدی تصاویر، سٹل لائف، وغیرہ کی دنیا بھر میں نمائشیں ہو
چکی ہیں۔
بلوچستان میں پیدا ہونے والے اور
پارسی خاندان سے تعلق رکھنے والے جمی انجینئرقرآنی خطاطی میں بھی
مہارت رکھتے ہیں اور ان کے شہ پارے پاکستان کی کئی اہم عمارتوں میں
آویزاں ہیں۔ ویسے بھی وہ اپنے آپ کو کسی ایک مذہب تک محدود رکھنے کے
قائل نہیں ہیں اور انھوں نے کئی برس مشہور بزرگ صوفی برکت اللہ کی
ارادت میں گزارے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا مصورخود خدا ہے
اور دنیا کے مصورصرف اس کی پیروی ہی کر سکتے ہیں۔
جمی انجینئرپاکستان میں مصوری کی
روایت سے کچھ زیادہ مطمئن نظر نہیں آتے۔ ان کا خیال ہے کہ موجود دور کے
مصور راتوں رات شہرت حاصل کرنے کی دھن میں فن پر زیادہ توجہ نہیں دیتے،
جس کے نتیجے ان کا فن ترقی نہیں کرتا۔
انھوں نے ایک اور مسئلے کی نبض پر
بھی انگلی رکھی، اور وہ ہے ہمارے فن کاروں کے اندر تشخص کا بحران، یعنی
آئیڈنٹٹی کرائسس، جنھیں سمجھ نہیں آتی کہ مغربی روایت کی کس حد تک
پیروی کریں، اپنے ورثے سے کس حدتک استفادہ کریں اور اس تمام سلسلے میں
مذہب اور ہمارے معاشرے کی مخصوص اخلاقیات کا کیا عمل دخل ہو۔
ان سب باتوں پر مستزاد ہمارے ہاں
لوگوں کا آرٹ کی طرف مایوس کن عمومی رویہ ہے۔ جمی انجینئر کہتے ہیں کہ
بہت سے متمول لوگ کوئی مہنگی تصویر محض یہ سوچ کر خریدتے ہیں کہ یہ ان
کے ڈرائنگ روم کے پردوں کے ساتھ زیب دے گی۔
لیکن ہمارا خیال ہے کہ جب تک اس
معاشرے کے خاکستر میں جمی انجینئر جیسی چنگاریاں موجود ہیں، تب
تک اس کے مستقبل سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ تصاویر ہم نے جمی انجینیئر
کی اجازت سے ان کی سائٹ سے حاصل کی ہیں
http://www.jimmyengineer.com
|

|
|
تقسیم ہند اور
ہجرت |
|

|
|
تقسیم ہند اور
ہجرت |
|

|
|
اسما
الحسنیٰ |
|

|
|
جمی انجینئر کی خطاطی کا
ایک اور نمونہ |
|

|
|
عمارتی سیریز کی
تصویر |
|

|
|
عمارتی سیریز کی ایک اور
خوب صورت تصویر |